یسوع کون ہے؟ (Who is Jesus? Urdu)

یسوع کون ہے؟ (Who is Jesus? Urdu)

یسوع کون ہے؟

 متی نامی یسوع کا ایک شاگرد، ہمیں متی کی انجیل ۱۳:۱۶ ۔ ۱۶ میں یہ کہانی بتاتا ہے۔  جب یسوع قیصر یہ فلپئی کے علاقہ  میں آیا تو اُس نے اپنے شاگردوں سے یہ پوچھا کہ’’ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں؟‘‘۔ اُنہوں نے کہا ’’بعض یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں بعض ایلیاہ  بعض یرمیاہ  یا نبیوں میں سے کوئی ‘‘۔ اُس نے اُن سے کہا’’ مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘۔  شمعون پطرس نے جواب میں کہا ’’تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح(مسیحا) ہے‘‘ ۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا ’’مبارک ہے تو  شمعون بریوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے  جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہر کی ہے‘‘۔

اِس حوالہ میں یسوع دو  بہت اہم سوالات پُوچھتا ہے۔پہلا سوال تھا:  کہ’’ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں؟‘‘۔جو جوابات اُنہوں نے دئیے وہ تمام غلط تھے۔ آج کے دور میں بھی، بہت سے غلط جوابات اور غلط رائے اِس بابت ہے کہ یسوع کون ہے۔

لیکن دوسرا سوال زیادہ اہم ہے: ’’ مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘۔

وہ یہ سوال ہم سے آج بھی پُوچھتا ہے۔ ہمارا جواب ابدی منزل کا معاملہ ہے۔

غور کریں کہ یسوع نے پُوچھا، کہ’’ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں؟‘‘۔وہ اپنے آپ کا حوالہ  بطور ابنِ آدم دیتا ہے۔ پھر غور کریں کہ پطرس نے کہا، ’’تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح(مسیحا) ہے‘‘ ۔

یہ تین  القابات، خُدا کا بیٹا، ابنِ آدم، اور مسیحا یسوع کی شناخت کیلئے کُنجیاں ہیں۔

خُدا کا بیٹا۔۔۔ابنِ آدم۔۔۔مسیحا

’’مسیحا‘‘ ایک عبرانی لفظ ہے جس کا مطلب ’’ممسوح‘‘ ہے۔ پُرانا عہد نامہ جو  قدیم یہُودیوں کو لکھا گیا، مسیحا کو بھیجنے کے خُدا کے وعدوں سے بھرا ہُوا تھا، ’’ممسوح‘‘ جو یہُودیوں اور ساری انسانیت کیلئے ابدی بادشاہ اور نجات دہندہ ہوگا۔

’’مسیحا‘‘ یسوع کا لقب ہے۔ مسیحا وہ آدمی ہوگا جسے خُدا دُنیا میں بھیجے گا جو رُوح القُدس کی قُدرت سے مسح ہوگا۔

ہم اُسے کیسے پیچان پائیں گے؟ خُدا کے رُوح کی قُدرت اور کام کرنے سے، یہ آدمی بیماروں کو شفا دے گا، معجزات کرے گا، بدرُوحیں نکالے گا، کُچلے ہُوؤں کو رہائی اور مُردوں کو زندہ کرے گا۔ یسوع نے سب کام کئے۔یسوع نے اندھی آنکھوں کو اور بہرے کانوں کو شفا دی اور لنگڑوں کو صرف کہہ دینے سے ہی چلنے کے قابل بنایا ۔ یسوع خُدا کے وعدے کا مسیحا ہے۔

لُوقا ۱۶:۴ ۔ ۲۱ میں جب یسوع تیس برس کا تھا۔ وہ یسعیاہ نبی کی ۶۰۰ برس پُرانی نبوت کا اقتباس دیتے ہُوئے اپنی خدمت کے آغاز کا اعلان کرتا ہے۔’’خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے ۔اِس لئے کہ اُس نے مُجھے غریبوں کو خُوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی

اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سُناؤں۔کُچلے ہُؤں کو آزاد کروں۔اور خُداوند کے سال مقبُول کی مُنادی کروں‘‘۔ پھریسوع  اُن سے کہنے لگا کہ ’’آج یہ نوشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُوا‘‘۔اِس چھ سو برس پُرانی نبوت کا اقتباس دینے سے، یسوع اپنے آپ کو بطور خُدا کا مسیحا پیش کررہاتھا ۔

اعمال ۳۸:۱۰ میں، پطرس رسُول یہ مُنادی  کرتے ہُوئے یسوع کے لقب اور مشن کی تصدیق کرتا ہے: ’’۔۔۔۔۔خُدا نے یسوع ناصری کو رُوح القُدس اور قُدرت سے کِس طرح مسح کیا۔وہ بھلائی کرتا اور اُن سب کو جو ابلیس کے ہاتھ سے ظُلم اُٹھاتے تھے شفا دیتا پھرا کیونکہ خُدا اُس کے ساتھ تھا‘‘۔

اُس دور کے یہُودی جانتے تھے کہ مسیحا اُن کی مانند انسان ہوگا، لیکن وہ سمجھ نہیں پائے تھے کہ وہ عام آدمیوں سے کہیں بڑھ کر کُچھ ہوگا۔

مسیح کے دو القابات، ’’ابنِ آدم‘‘ اور ’’خُدا کا بیٹا‘‘ دونوں انسانیت اور الوہیت کی دہری فطرت کو  ظاہر کرتے ہیں۔ یسوع  دونوں مُکمل انسان اور مُکمل الوہی ہے۔وہ برگشتہ انسانی نسل اور پاک اور کامل خُدا کے درمیان مُنفرد اور واحد پُل ہے، کیونکہ  وہ دونوں خُدا اور انسان میں ایک جسم ہے۔

یسوع نے کہا، ’’راہ اور حق اور زندگی میں ہُوں، کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یُوحنا ۶:۱۴)۔ یسوع کہہ رہا تھا کہ  یسوع میں ایمان کے بغیر خُدا کو جانے کیلئے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔اور یسوع کہہ رہا تھا کہ وہ حق ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا تھا  کہ وہ سچائی سکھاتا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ حق ہے۔ یہ ایک بڑا دعویٰ ہے۔ اور یسوع کہہ رہا تھا کہ وہ زندگی ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا تھا  کہ وہ زندگی دیتا ہے یا وہ زندگی کی راہ دکھاتا ہے۔ وہ یہ کہہ رہا تھا  کہ وہ زندگی ہے۔ یہ بھی ایک بڑا دعویٰ تھا۔ اور یسوع کہہ رہا تھا کہ خُدا اُس کا باپ تھا۔ یسوع یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اگر تُم یسوع میں ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے پاس آتے ہو، خُدا تُمہارا بھی باپ بن جائے گا!

یُوحنا کی انجیل یُوحنا رسُول نے مسیحی ایمانداروں کو مضبوط کرنے کیلئے لکھی اور یسوع مسیح کی شناخت اور فطرت کو اور زیادہ ظاہر کرنے کیلئے ۔ یُوحنا اپنی انجیل کا آغاز اِس طرح کرتا ہے: ’’ابتدا میں کلام تھا اور خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا‘‘ (یُوحنا ۱؛۱)۔ پھر آیت ۱۴ میں یُوحنا کہتا ہے، ’’اور کلام مُجسم ہُوا اور ہمارے درمیان رہا‘‘۔

کلام یسوع ہے۔ وہ خُدا ہے۔ وہ انسان بنا اور ہمارے درمیان رہا۔

ہم اِس کو سمجھ سکتے ہیں اگر ہم خُدا کی ’’تثلیث‘‘ کو سمجھتے ہیں۔ لفظ ’’تثلیث‘‘ بائبل میں نہیں ہے، لیکن  ہم لفظ کا استعمال بائبل کے مُکاشفہ کے اظہار کیلئے کرتے ہیں کہ ہمارا خالق تثلیثی ہستی ہے۔۔۔ایک خُدا تین حصوں میں ابدی وجود رکھتے ہُوئے۔۔۔تین اشخاص کی صُورت میں۔آج کے دور میں ہم تثلیث کو بطور باپ، بیٹے اور  رُوح القُدس  سمجھتے ہیں۔ وہ ایک ہے  لیکن وہ تین ہیں۔

بڑا سوال یہ ہے: یسوع مسیحا، کیوں ’’خُدا کا بیٹا‘‘ کہلاتا  ہے اگر وہ حقیقتاً خُدائے خالق، تثلیث کا دوسرا شخص ہے؟

لُوقا ۲۶:۱ ۔ ۲۹ ہمیں بتاتا ہے کہ دو ہزار برس قبل، جبرائیل فرشتہ خُدا ، مریم نامی ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا اور فرشتہ اُس کو بتاتا ہے کہ خُدا نے اُسے چُنا ہے کہ اُسے وعدے کے مسیحا کی ماں بننے کیلئے چُنے۔ لُوقا ۳۰:۱ ۔ ۳۵ میں فرشتہ نے اُس سے کہا’’ ائے مریم! خوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہوا ہے۔  اور دیکھ تُو حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اُس کا نام یسوع رکھنا۔ وہ بُزرگ ہوگا اور خُدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤد کا تخت اُسے دے گا۔ اور وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گااور اُس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا‘‘ ۔ مریم نے فرشتہ سے کہا’’ یہ کیوں کر ہوگا جبکہ میں مرد کو نہیں جانتی؟‘‘۔

 اور فرشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ’’ رُوح القدس تُجھ پر نازل ہوگا اور خُدا تعالیٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولُود مُقدس خُدا کا بیٹا کہلائے گا‘‘۔

دُوسرے لفظوں میں، خُدا کا کلام، تثلیث کا دوسرا شخص ، نوجوان یہُودی عورت کے بطن میں ایک انسانی بچہ بنا۔ وہ، یسوع ، خُدا کا مُنفرد بیٹا ، کیونکہ اُس کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔مریم ، خُدا کے رُوح القُدس سے فوق الفطرت طور حاملہ ہوئی۔ یسوع کا واحد باپ خُدا ہے۔

اور وہ، یسوع، انسان کا مُنفرد بیٹا کیونکہ وہ مُکمل طور انسان تھا، ہماری مانند ایک عام انسانی عورت سے پیدا ہُوا۔ وہ خُدا انسان ہے، دروازہ ہے، گُناہگار انسان اور پاک خُدا کے درمیان ایک پُل۔

یُوحنا ۹:۱۰ میں، یسوع کہتا ہے، ’’دروازہ میں ہُوں۔اگر کوئی مُجھ سے داخل ہو  تو نجات پائے گا۔۔۔۔‘‘ لیکن وہ سمجھ نہیں پائے۔

یُوحنا ۳۰؛۱۰ میں یسوع نے لوگوں کو بتایا، ’’میں اور باپ ایک ہیں‘‘۔ لیکن وہ سمجھ نہیں پائے۔

یُوحنا ۸:۱۴ ۔ ۱۰ میں اُس کا شاگرد فلپُس اُس سے کہتا ہے، ’’ اے خداوند۔ باپ کو ہمیں دکھا۔ یہی ہمیں کافی ہے‘‘۔

 یسوع نے اُس سے کہا’’ اے فلپس۔ میں اتنی مدت سے تمہارے ساتھ ہوں کیا تو مجھے نہیں جانتا؟۔جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔ تو کیونکر کہتا ہے کہ’ باپ کو ہمیں دکھا‘۔ کیا تو یقین نہیں کرتا کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے‘‘۔

یسوع کا مشن انسانی نسل کیلئے خُدا کا واضح مُکاشفہ ہونا تھا، اپنے خُون سے ہمارے گُناہوں کا مُول ادا کرنے کیلئے، تا کہ ہمارے جگہ موئے اور مُردوں میں سے جی اُٹھے، پس سب کو ہمیشہ کی زندگی اور  مُعافی پیش کرے۔

آج کے دور میں بہت سی بدعتیں، فلسفے اور جھوٹی تعلیمات ہیں، جس نے ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی شناخت اور جلالی  سچائی کو چھُپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اِن سب کے باوجود، وہ  ابھی بھی خُدا، انسان اور مسیحا رہتا ہے۔

دوہزار برس قبل ابتدائی مسیحیوں کو انہی چیلنجز کا سامنا تھا۔ اِن چیلنجز کے جواب میں ، پولُوس رسُول کُلسیوں ۸:۲ ۔ ۰ میں لکھتا ہے: ’’ خبردار کوئی شخص تم کو اُس فیلُسوفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کر لے جو انسانوں  کی روایت اور دنیوی ابتدائی باتوں کے موافق ہیں نہ کہ مسیح (مسیحا)کے موافق۔  کیونکہ اُلوہیت کی ساری معموری اُسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے‘‘۔

یُوحنا رسُول یسوع کی زندگی کے حوالے کا خُلاصہ اِس سے کرتا ہے: ’’لیکن یہ  (معجزات)اس لئے لکھے گئے کہ تم ایمان لاؤ کہ یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لاکر      اُس کے نام سے زندگی پاؤ (یُوحنا ۳۱:۲۰)۔